وہ کسی بے روح لاشے کی طرح بالکل سیدھی لیٹی ہوتی۔ صرف وقفے وقفے سے جھپکتی پلکیں اس کے زندہ ہونے کا پتہ دیتیں ۔وہ شاذ ہی کروٹ کے بَل لیٹتی یا کروٹ بدلتی۔ کم از کم شازینہ نے اسے کبھی پہلو کے بل لیٹے نہیں دیکھا تھا۔ وہ جب بھی اس کے پاس گئی اُسے یونہی مردوں کی طرح بے حس و حرکت لیٹے ہوئے پایا۔
وہ ایک آرام دہ پرائیویٹ کمرے میں مقیم تھی۔ اُس کے کمرے میں ہر سہولت موجود ہونے کے علاوہ روزانہ تازہ پھولوں کا گل دستہ بھی پہنچایا جاتا تھا۔گل دستے کے پاس میز پر ایک بے حد خوبصورت جار میں ایک سنہری مچھلی بھی تھی جسے وہ اپنے ساتھ لائی تھی۔وہ اکثر نظریں جمائے اسے دیکھتی رہتی۔ غالباً یہی اُس کی واحد تفریح تھی۔ وہ ایڈز کی مریضہ تھی اور اس کا نام ملیحہ تھا۔
ملیحہ پچھلے چھے ماہ سے اس ہسپتال میں زیرِ علاج تھی۔ اُس کی جسمانی حالت ابھی اتنی زوال پزیر نہیں ہوئی تھی جتنی کہ ذہنی حالت۔ اس لیے شازینہ کو جو ایک سائیکالوجسٹ تھی اُس کی سائیکو تھراپی کے لیے کہا گیا تھا۔ وہ روزانہ اُس کے پاس جاتی اور مختلف طریقے آزماتی۔ پانچ ماہ ہو گئے تھے اُسے اِس پتھر سے سر پھوڑ تے مگر اس کی عدم تعاون کی پالیسی برقرار تھی۔ وہ اس کے ساتھ ہر نشست کے بعد دل پر بوجھ لیے اٹھتی۔
شازینہ کو اس عجیب و غریب مریضہ سے ہمدردی بھی تھی مگر اُس کا اِس قدر شدید رویہ کوفت بھی پہنچاتا۔ ایک روز شازینہ نے یہ سوچ کر کہ ممکن ہے ہسپتال کی فضا اس کے ذہن پر برا اثر ڈال رہی ہو، اُس نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ اتنی بیمار ہرگز نہیں کہ اس کا ہسپتال میں رہنا ضروری ہو، وہ گھر رہ سکتی ہے ۔ علاج کے لیے ہسپتال آتی جاتی رہے ۔مگر وہ ہسپتال میں ہی رہنے پر مصر رہی۔ اُس کی طویل اور مدلل تقریر کے جواب میں اُس نے کہا تو اتنا کہ اگر کبھی کسی دوسرے مریض کے لیے کمرے کی ضرورت ہو تو وہ یہ کمرہ خالی کر سکتی ہے ورنہ وہ یہیں رہنا پسند کرے گی۔
وہ اسے سمجھاتی کہ وہ خوش قسمت ہے کہ اُس کے پاس دولت ہے اور اُسے وہ انتہائی مہنگی دوا دی جا رہی ہے جس سے اگرچہ وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکتی مگر اُس کی بیماری کے اثرات محدود ہو جائیں گے ، اُس کی حالت مزید نہیں بگڑ ے گی۔تحقیق جاری ہے ۔ عین ممکن ہے آئندہ کوئی ایسی دوا بھی نکل آئے جس سے مکمل طور پر صحت یاب ہوا جا سکے ۔ اُسے شکر کرنا چاہیے کہ وہ اس دوا کو خریدنے کی استطاعت رکھتی ہے جو عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے ۔
اُس کے پاس کافی پیسہ تھا جس کے لیے اُس نے وصیت کر دی تھی کہ اُس کی موت کے بعد ہسپتال کو عطیہ دے دیا جائے ۔ ملیحہ، شازینہ کی ساری باتیں سنتی رہتی مگر کوئی جواب نہ دیتی۔ اُسی طرح بے حس و حرکت پڑ ی رہتی۔ اتنے مہنگے علاج کے باوجود اُس کی صحت روز بہ روز گرتی جا رہی تھی اور اِ س کی وجہ اُس کا یہی رویہ تھا۔
ملیحہ کے دل میں جینے کی کوئی خواہش نہ تھی۔ شازینہ اُسے ترغیب دیتی کہ باہر موسم بہت اچھا ہے ۔ بہت خوب صورت پھول کِھلے ہیں ۔ لان میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں تو وہ ایک بے رُوح مسکراہٹ کے ساتھ کہتی۔ ’’شکریہ میں یہیں ٹھیک ہوں ۔‘‘
وہ بار بار اُسے اُس کے نام سے مخاطب کرتی تا کہ اُس میں اپنی شخصیت کا ، اپنی شناخت کا احساس اُجاگر ہو۔ وہ اُسے بتاتی۔ ’’ دیکھیں ملیحہ! آپ کو ہر وقت لیٹے رہنے کی، اتنے آرام کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ نارمل زندگی بسر کر سکتی ہیں ۔ اِ س سے پہلے آپ کی جو بھی سرگرمیاں رہی ہیں انھیں جاری رکھ سکتی ہیں ۔‘‘
مگر جواب میں وہی مسکراہٹ ہوتی۔
پیشہ ورانہ تربیت اور ضبط کے باوجود شازینہ کی آواز میں تھوڑ ا چڑ چڑ ا پن آ ہی گیا تھا۔
’’آپ سمجھتی کیوں نہیں ، اِس طرح لیٹے رہنے سے آپ کی ہڈیاں نرم پڑ جائیں گی، کمزور ہو جائیں گی، جوڑ جم جائیں گے ، پھر آپ سچ مچ نہیں چل پائیں گی۔ اِس طرح معذور ہونا آپ کو اچھا لگے گا؟‘‘
اور جواب میں پھر وہی مسکراہٹ تھی۔
شروع شروع میں ملیحہ سے ملنے کافی لوگ آئے ۔ لیکن اُس نے ملاقاتیوں سے ملنے سے انکار کر دیا بل کہ اُس نے آنے والوں کے نام تک بتانے سے روک دیا۔ صرف اُس کی ایک سہیلی جس کا نام سمن تھا، جو لڑ جھگڑ کر چلی آتی، اُس کے آنے پر ملیحہ معترض نہ ہوتی۔ مگر اُس کے ساتھ بھی اُس کا رویہ وہی رہتا۔
وہ کبھی پھول لاتی، کبھی کتابیں ، مگر وہ اُنھیں آنکھ بھر کر دیکھتی تک نہیں تھی۔ وہ بے چاری رو دھو کر لوٹ جاتی مگر آنا نہ چھوڑ ا۔ پھر اُس کے شوہر کا کہیں تبادلہ ہو گیا اور وہ چلی گئی۔ وہ وقتاً فوقتاً ملیحہ کا حال دریافت کرنے کے لیے شازینہ کو فون کرتی رہتی تھی۔
وہ تو چلی گئی مگر شازینہ نے اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔ صرف ایک بات تھی جس سے شازینہ کو لگتا تھا کہ اُس میں شاید زندگی سے کچھ دل چسپی باقی ہے ۔ وہ بہت سلیقے سے اچھا لباس پہنتی اور کنگھی چوٹی سے بھی حلیہ درست رکھتی۔۔۔
’’چلو ایک بات تو اچھی ہے کہ آپ خوش لباس ہیں اور خود پر توجہ دیتی ہیں ۔‘‘
وہ مسکرائی۔ ’’اچھا لباس تو میں اس لیے پہنتی ہوں کہ دیکھنے والے کی نظروں کو میرے اوٹ پٹانگ حلیے سے کوفت نہ ہو۔ میں نہیں چاہتی کہ میری ذات سے کسی کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچے ۔‘‘
سمن نے شازینہ کو بتایا تھا کہ ملیحہ کو مطالعے کا بے حد شوق تھا ۔ اُس کی ذاتی لائبریری میں بڑ ی نادر اور نایاب کتابیں تھیں اور گیتوں اور غزلوں کا کافی بڑ ا ذخیرہ بھی تھا۔ شازینہ نے سوچا، اگر وہ اِن مشاغل میں دوبارہ دل چسپی لینے لگے تو اُس کا دھیان بٹ سکتا ہے اور مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ بات چھڑ نے کی غرض سے اس نے ملیحہ سے کہا:
’’مجھے یقین ہے کہ آپ جیسی نفیس خاتون کو مطالعے اور موسیقی کا ذوق بھی ہو گا۔ میرے پاس، اِن چیزوں کا اچھا ذخیرہ ہے ۔ میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتی ہوں ۔ آپ بھی ان سے محظوظ ہو سکتی ہیں ۔‘‘
’’آپ کی پیش کش کا شکریہ، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔‘‘ وہ پھر پتھر کی ہو گئی۔
شازینہ کو اُس سے ایک انسیت سی پیدا ہو گئی تھی۔ اُس کا شائستہ و ملائم لہجہ، اُس کی اُداس مسکراہٹ اُسے اچھی لگتی۔ ویسے بھی وہ خوش شکل تو تھی ہی۔ مگر اُس کا عدم تعاون اُسے تکلیف دیتا، وہ اُسے یوں مرتے دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ اُس نے پہلے سے بھی زیادہ لگن سے اپنی کوششیں تیز تر کر دیں ۔ اِسی سلسلے میں اُس نے سمن سے کہا کہ چونکہ وہ ملیحہ کی بچپن کی دوست ہونے کے ناتے سب حالات جانتی ہے اگر وہ سب باتیں تفصیل سے اُسے لکھ دے تو شاید اُس سے ملیحہ کا رویہ جاننے اور اُس کا کوئی حل ڈھونڈنے میں کچھ مدد مل سکے ۔
شازینہ نے ہر وہ حربہ آزمانے کا فیصلہ کر رکھا تھا جس سے اُس کی سوچ میں تبدیلی ہو اور اُس کا رویہ بدلے ۔ آج کی نشست میں اُس نے اُسے جھنجھوڑ نے کے ارادے سے کہا۔
’’ملیحہ! آپ کے دل میں جینے کی خواہش موجود ضرور ہے مگر آپ نے اسے حزن کی تہوں میں دبا رکھا ہے ۔‘‘
’’یہ انداہ آپ کو کیسے ہوا؟‘‘ وہ مسکرائی۔ وہی دھیمی اُداس مسکراہٹ!
’’ہو سکتا ہے یہ بات آپ کے لاشعور میں ہو مگر ہے ضرور۔ یہ دیکھیے کہ آپ ہسپتال میں رہتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ علاج کے لیے کیوں آتیں ؟ ہسپتال میں کیوں رہتیں ؟ کہیں بھی رہ سکتی تھیں ۔‘‘
شازینہ کی توقع کے خلاف وہ ایک دم یوں اٹھ کر بیٹھ گئی جیسے سپرنگ کا کھلونا۔ اُس کا چہرہ کسی اندرونی کیفیت سے تمتما رہا تھا۔ وہ چند لمحے بیٹھی رہی پھر آہستہ آہستہ لیٹ گئی اور اُس کے چہرے کا وہی خالی تاثر لوٹ آیا۔
چند لمحوں بعد اُس کی مدھم، شائستہ مگر بے تاثر آواز اُبھری۔ ’’ آپ غلط سمجھ رہی ہیں شازینہ! ہسپتال تو میں اس لیے چلی آئی کہ کسی کے احسان کا بوجھ نہ اٹھانا پڑ ے اور سکون سے مر سکوں ۔ میری اذیت کو طویل بنانے کی کوشش نہ کریں ۔‘‘ اُس کے لہجے میں التجا تھی۔
شازینہ کا دل دُکھ سے بھر گیا۔ وہ کچھ بولی نہیں ۔ بس اُس کا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور اُٹھ کھڑ ی ہوئی۔
شازینہ دو روز طبیعت کی خرابی کی وجہ سے ہسپتال نہ جا سکی۔ تیسرے روز گئی تو پہلی اطلاع یہ تھی کہ ملیحہ کل صبح اپنے بستر پر مردہ پائی گئی۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے اُسے سائلنٹ ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔
اور آج ہی اسے سمن کا خط ملا ہے ۔ ملیحہ کی داستان کا خلاصہ۔ اُس نے لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ملیحہ اُس کے بچپن کی دوست ہے ۔ وہ بچپن ہی سے بہت نرم خو اور صابر تھی۔ حالانکہ ایک دولت مند گھرانے سے تھی مگر اس میں امیروں والی کوئی خُو بُو نہیں تھی۔ اس کے برعکس وہ بڑ ی منکسرمزاج تھی۔
بڑ ے گھر کی بیٹی تھی، بڑ ے گھر کی بہو بنی۔اُس کے شوہر کا کاروبار کئی ملکوں میں پھیلا ہوا تھا۔ وہ اکثر باہر دوروں پر رہتا۔ ملیحہ نے کبھی کسی کے سامنے اپنے شوہر کی سختی، سستی یا بے راہ روی کی شکایت نہیں کی تھی۔وہ ہمیشہ سے ہی بڑ ی گہری تھی۔ مگر مجھ سے اُس کی کوئی بات چھپی نہ تھی۔ وہ ایک عیاش شخص تھا اور اِس معاملے میں اسے ملیحہ کے جذبات کی کوئی پروا نہ تھی۔ابتدا میں اِس نے اُس کی بے راہ روی کا شکوہ کیا تو بجائے شرمندہ ہونے اور اپنی اصلاح کرنے کے اُس کے ساتھ سختی سے پیش آنے لگا۔دل شکستہ ہو کر اُس نے خاموشی اختیار کر لی اور اپنی واحد اولاد اپنے بیٹے کی خاطر حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ میں نے اُسے لاکھ سمجھایا کہ اُسے ایسے سمجھوتوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنی زندگی یوں تباہ نہ کرے مگر وہ اپنے والدین کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی اور اپنے بیٹے کو ایک ٹوٹے ہوئے گھر کے کرب اور احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اُس نے خود کو سماجی بہبود اور رضاکارانہ کاموں میں مصروف کر لیا۔ مطالعے میں دل لگا لیا۔ فالتو وقت میں موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتی۔ پیسے کی فراوانی تھی۔ آنے جانے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ یوں لوگوں کی نظر میں اُس کے حالات بہ ظاہر قابلِ رشک تھے ۔
اصل حالات کیا تھے ، یہ تو صرف وہ خود جانتی تھی اور جب کہ اُس کے والدین گزر گئے تھے ۔ بیٹا جوان ہو گیا تھا کہ اچانک ایک روز یہ دھماکہ خیز انکشاف ہوا کہ ملیحہ کو ایڈز ہو گئی ہے ۔ پھر تو گویا طوفان آ گیا۔ دوست احباب لعنت ملامت کرنے لگے ، رشتہ دار تھو تھو کرنے لگے اور اس کے شوہر نے آوارگی اور بدچلنی کے اس زندہ ثبوت کو گھر سے نکال دیا۔ اُس کی واحد اولاد اُس کے بیٹے نے بھی نفرت کا اظہار کیا۔ملیحہ کا دل ان حالات کی سفاکی سے اِس بری طرح ٹوٹا کہ نہ اُس نے کوئی احتجاج کیا اور نہ اپنے دفاع میں ایک لفظ تک بولی۔بس پتھر کی ہو گئی اور ہسپتال رہنے چلی آئی۔
میں تو صرف اُس کی دوست ہوں پھر بھی پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ نہ آوارہ ہے نہ بدچلن۔ اُس کے شوہر کو بھی چھوڑ یں ، کیا اُس کے بیٹے کو بھی کوئی اندازہ نہیں ماں کے کردار کا۔
میں ڈاکٹر تو نہیں ، مگر مجھے معلوم ہے ، مجھے یقین ہے کہ اُسے یہ بیماری اپنے شوہر سے ملی ہے ۔وہی کیرئیر ہے اس بیماری کا۔ یہ کمزور اور نازک تھی اِس پر اثرات جلد ظاہر ہو گئے ، اس پر چاہے بعد میں اثر ظاہر ہو مگر وہ مرے گا ایڈز سے ہی ۔۔۔۔ آوارہ، بدچلن، کمینہ!
اور شازینہ کو ملیحہ سے دو روز پہلے کی گفتگو یاد آئی جب اُس نے کہا تھا۔
’’ملیحہ پلیز! خود کو یوں پتھر نہ بناؤ، اپنا آپ کھولو۔ کہ دو ساری باتیں ۔ اتار دو یہ بے حسی کا خول۔ دوستی کے ناتے ہی اپنا بوجھ میرے ساتھ بانٹ لو۔‘‘
’’بہت شکریہ شازینہ! مگر میرے پاس بتانے کو کچھ نہیں ۔ یہ گولڈ فِش دیکھ رہی ہو نا، اس کی یادداشت صرف تیس سیکنڈ ہوتی ہے ۔ ہر تیس سیکنڈ کے بعد اس کی نئی زندگی شروع ہوتی ہے ۔ مجھے بھی اس گولڈ فِش کی طرح اپنی موجودہ اذیت اور کرب کے سوا کچھ یاد نہیں ۔ زندگی، زندگی کے احساس کے سوا اور کیا ہے میری دوست! اور جب یہ گولڈفِش مرے گی تو وہ آخری تیس سیکنڈ جو اِس کی یادداشت میں ہوں گے وہ موت کی اذیت ہو گی۔ گویا وہ اپنی پوری زندگی صرف مرتی رہی ہے ۔
آپ سمجھ رہی ہیں نا!‘‘
اُس نے کہا تھا۔
فرحت پروین ۔۔۔ گولڈ فش
گولڈ فش
